ایک غزل: مرا شعور، مرا فکر، میرا ظرف دعا ... مری نگاہ، مرا ذکر، میرے حرف دعا *** تری دکان_ بدن کارگاہ_ ظل_ زیاں ... مری کمائی، مری ساکھ، میرا صرف دعا *** ہوا، درخت، پرندے، سویر، پھول، ہنسی ... خزاں کی دھوپ، فلک، چاند، شام، برف دعا *** تمیز _ باطن و ظاہر وہ دل نہیں کرتا ... زبان جس کی دعا، جس کا نحو و صرف دعا
Posted by Ahsan Butt on December 12, 2009 at 6:07pm
بجھا چراغ تو رونے لگی ہوا ... چپ چاپ/ کہ جیسے دشت میں ڈوبے کوئی صدا ... چپ چاپ ** مرا خدا مری تنہائیوں کا ساتھی ہے/ کہ جیسے پھول کے ہمراه ہو صبا ... چپ چاپ ** زمانہ دهوپ کی صورت عذاب بنتا گیا/ میں سبز پیڑ کی صورت سہا کیا ... چپ چاپ ** کوئی تو بات کر ایسی جو یاد رہ جائے/ تو اس طرح سے مجھے چھوڑ کر نہ جا ... چپ چاپ ** نہ مار سنگ مجھے، پھول پھینک دے ظالم!/ تو دور ٹھیر کے یوں تو نہ مسکرا ... چپ چاپ (شاعر:احسن بٹ)
Posted by Ahsan Butt on November 25, 2009 at 9:30pm — 3 Comments
غـــــــــــــــم
کی بارش نےبھی اس کےنقش کودھویانہیں
اســـــــــــــں
نےمجھ کوکھودیا،میں نےاسےکھویانہیں
نینـــــــــــــــد
کاہلکاگلابی ساخمارآنکھوں میں تھا
یـــــــــــــــوں
لگاجیسےوہ شب کودیرتک سویا نہیں
جـــــــــــــــانتا
ہوں ایک ایسے شخص کومیں بھی
منیر
غـــــــــــــــم
سےپتھرہوگیالیکن کبھی رویانہیں
Posted by Ahsan Butt on November 9, 2009 at 1:01am
Most intellectual people do not believe in God, but they fear him just the same.
(Wilhelm Reich)
Posted by Ahsan Butt on October 30, 2009 at 7:08pm
علامتوں کازوال، انتظارحسین:
"36ء میں جو ہمارے یہاں عقل کے پتلے پیداہو گئے تھے انہوں نے تو دیو مالا، مذہب، تاریخ، ادبی روایت سب ہی کو دیس نکالا دے دیا تھا، لیکن عجیب بات ہے کہ کسی نہ کسی راستے سے یہ سب طاقتیں پلٹ آئی ہیں ... آدمی شاید کیلنڈر تو نہیں ہے، اکثر صدیاں گذر جاتی ہیں اور اس کا بنیادی طرزعمل وہی رہتا ہے-"
Posted by Ahsan Butt on October 22, 2009 at 9:55am